ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / سرکاری اسپتالوں میں ٹھیک علاج نہیں ہورہا ہے تو بند کردیا جائے: رمیش کمار

سرکاری اسپتالوں میں ٹھیک علاج نہیں ہورہا ہے تو بند کردیا جائے: رمیش کمار

Sun, 05 Feb 2017 10:43:06    S.O. News Service

بنگلورو،4؍فروری(ایس او نیوز)اپنی صاف گوئی کیلئے معروف وزیر صحت کے آر رمیش کمار نے آج کہاکہ اگر سرکاری اسپتالوں میں اچھا علاج نہیں ہورہا ہے اور یہاں کے ڈاکٹرس مسلسل لاپرواہی برت رہے ہیں تو بہتر ہے کہ ان سرکاری اسپتالوں کو بند ہی کردیا جائے۔ آج شہر کے جئے نگر جنرل اسپتال کے احاطہ میں تعمیر شدہ 100 بستروں پر مشتمل ایم سی ایچ ڈویژن کا افتتاح کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ کچھ طاقتیں سرکاری اسپتالوں کو دانستہ طور پر کمزور کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔انہوں نے کہاکہ صحت عامہ کا شعبہ سدھار کا متقاضی ہے۔فوری طور پر اگر اس پر توجہ نہیں دی گئی تو سرکاری اسپتالوں پر عوام کا اعتماد جو پہلے ہی ٹوٹ چکا ہے ختم ہوجائے گا۔ انہوں نے کہاکہ اکثر لوگ اپنے علاج کیلئے نجی اسپتالوں کا رخ کرتے ہیں ، اگر ان لوگوں کو سرکاری اسپتالوں میں آنا پسند نہیں ہے تو پھر کروڑ ہا روپیوں کی رقم صرف کرکے ان اسپتالوں کو چلانے کا کیا مطلب ہے۔ انہوں نے کہاکہ شہر کے دو بڑے سرکاری اسپتالوں ، بورنگ اور وکٹوریہ میں اکثر وہی مریض آتے ہیں جو بہت غریب ہیں، لیکن بحیثیت وزیر صحت وہ یہ بات دعویٰ کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ بورنگ اور وکٹوریہ اسپتالوں میں علاج کے بہترین انتظامات کئے گئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ متوسط اور امیر طبقہ جس نے ہیلتھ انشورنس حاصل کررکھا ہے نجی اسپتالوں کی ملی بھگت سے رقم بٹورنے یا پھر انشورنس کی رقم سے مفت علاج کرانے کے لالچ میں نجی اسپتالوں کا رخ کرتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ سڑک حادثہ کی صورت میں فوری امداد کیلئے وزیراعلیٰ ہریش سانتونا اسکیم شروع کی گئی ہے۔ ساتھ ہی سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلہ کی روشنی میں سڑک حادثہ کے بعد اگر کوئی بھی زخمی کو اسپتال پہنچائے گا تو اسے قانونی تقاضوں کا حوالہ دے کر ہراساں نہ کیا جائے۔ رمیش کمار نے کہا کہ حال ہی میں ہبلی میں ایک سڑک حادثہ میں انور نامی ایک نوجوان کی موت سے یہ احساس ہوا کہ ہماری انسانیت کس قدر مردہ ہوچکی ہے۔ سڑک حادثہ میں زخمی ہوکر لہو لہان نوجوان کو فوراً اسپتال پہنچانے کی بجائے لوگ اپنے موبائل فون سے اس کی تصاویر اور ویڈیوز لینے میں لگے رہے اور بے یار ومدد گار نوجوان انور ایمبولنس کے آنے تک بے تحاشہ خون بہہ جانے کے سبب لقمۂ اجل بن گیا۔انسانیت کو اس سے زیادہ شرمندگی اور کیا ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت نے جن اوشدی اسکیم لانے کا اعلان کیا ہے، اس اسکیم کے تحت ریاست میں 200 جن اوشدی مراکز قائم کرنے وزیراعلیٰ سدرامیا نے رضامندی ظاہر کی ہے۔ ریاست کے 146 اسپتالوں میں مفت ڈیالیسس یونٹ تین ماہ میں کام کرنے لگیں گے۔ دوا ساز کمپنیوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ ان کمپنیوں پر کسی طرح کی گرفت ہی نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ بس میں معمولی بٹوا چرانے والوں کو پکڑ کر ان کے ساتھ پولیس غیر انسانی سلوک کرتی ہے، لیکن کم قیمت کی دواؤں کو کئی گنا بڑھاکر فروخت کرکے دن دھاڑے لوٹ مچانے والی دوا ساز کمپنیوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی، بلکہ ان کمپنیوں کے مالکوں کو پدما شری اعزازسے نوازا جاتاہے۔اگر لٹیروں کو اعزاز ہی دینا ہے تو پھر آئندہ پاکٹ ماروں کو بھی اعزاز سے نوازا جائے ، انہیں کیوں جیل میں ڈالا جاتاہے۔اس موقع پر مرکزی وزیر برائے کیمیا وکھاد اننت کمار نے کہاکہ مرکزی حکومت عنقریب کینسر ، ذیابیطس ، امراض قلب، اور دیگر امراض کے علاج کی سہولیات غریب اور متوسط طبقات کو ان کے گھروں تک پہنچانے کیلئے قدم اٹھارہی ہے۔ساتھ ہی مفت طبی جانچ کے کیمپس محلہ واری سطح پر کئے جائیں گے۔وزیر موصوف نے کہاکہ ملک بھر میں تین ہزار سے زائد جن اوشدی مراکز قائم کئے جارہے ہیں۔ اس موقع پر ریاستی وزیر برائے ترقیات بنگلور کے جے جارج ، جئے نگر کے رکن اسمبلی وجئے کمار، مقامی کارپوریٹر ، محکمۂ صحت کے اعلیٰ افسران وغیرہ موجود تھے۔


Share: